6 اشعار

شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیا

Shabnam ko ret phool ko kanta bana diya

شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیاہم نے تو اپنے باغ کو صحرا بنا دیا

اس اونچ نیچ پر تو ٹھہرتے نہیں تھے پاؤںکس دست شوق نے اسے دنیا بنا دیا

کن مٹھیوں نے بیج بکھیرے زمین پرکن بارشوں نے اس کو تماشا بنا دیا

سیراب کر دیا تری موج خرام نےرکھا جہاں قدم وہاں دریا بنا دیا

اک رات چاندنی مرے بستر پہ آئی تھیمیں نے تراش کر ترا چہرہ بنا دیا

پوچھے اگر کوئی تو اسے کیا بتاؤں میںدل کیا تھا، تیرے غم نے اسے کیا بنا دیا

— احمد مشتاق