6 اشعار

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں

Yeh tanha raat yeh gahri fizaen

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیںاسے ڈھونڈیں کہ اس کو بھول جائیں

خیالوں کی گھنی خاموشیوں میںگھلی جاتی ہیں لفظوں کی صدائیں

یہ رستے رہروؤں سے بھاگتے ہیںیہاں چھپ چھپ کے چلتی ہیں ہوائیں

یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہےاسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں

جو غم جلتے ہیں شعروں کی چتا میںانہیں پھر اپنے سینے سے لگائیں

چلو ایسا مکاں آباد کر لیںجہاں لوگوں کی آوازیں نہ آئیں

— احمد مشتاق