9 اشعار

تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں

Tum aaye ho tumhein bhi aazma kar dekh leta hoon

تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوںتمہارے ساتھ بھی کچھ دور جا کر دیکھ لیتا ہوں

ہوائیں جن کی اندھی کھڑکیوں پر سر پٹکتی ہیںمیں ان کمروں میں پھر شمعیں جلا کر دیکھ لیتا ہوں

عجب کیا اس قرینے سے کوئی صورت نکل آئےتری باتوں کو خوابوں سے ملا کر دیکھ لیتا ہوں

سحر دم کرچیاں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی ملتی ہیںتو بستر جھاڑ کر چادر ہٹا کر دیکھ لیتا ہوں

بہت دل کو دکھاتا ہے کبھی جب درد مہجوریتری یادوں کی جانب مسکرا کر دیکھ لیتا ہوں

اڑا کر رنگ کچھ ہونٹوں سے کچھ آنکھوں سے کچھ دل سےگئے لمحوں کو تصویریں بنا کر دیکھ لیتا ہوں

نہیں ہو تم بھی وہ اب مجھ سے یارو کیا چھپاؤ گےہوا کی سمت کو مٹی اڑا کر دیکھ لیتا ہوں

سنا ہے بے نیازی ہی علاج ناامیدی ہےیہ نسخہ بھی کوئی دن آزما کر دیکھ لیتا ہوں

محبت مر گئی مشتاقؔ لیکن تم نہ مانو گےمیں یہ افواہ بھی تم کو سنا کر دیکھ لیتا ہوں

— احمد مشتاق