8 اشعار

میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہے

Main ne ae dil tujhe seene se lagaya hua hai

میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہےاور تو ہے کہ مری جان کو آیا ہوا ہے

بس اسی بوجھ سے دوہری ہوئی جاتی ہے کمرزندگی کا جو یہ احسان اٹھایا ہوا ہے

کیا ہوا گر نہیں بادل یہ برسنے والایہ بھی کچھ کم تو نہیں ہے جو یہ آیا ہوا ہے

راہ چلتی ہوئی اس راہ گزر پر اجملؔہم سمجھتے ہیں قدم ہم نے جمایا ہوا ہے

ہم یہ سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں اس کوآج بے طرح ہمیں یاد جو آیا ہوا ہے

وہ کسی روز ہواؤں کی طرح آئے گاراہ میں جس کی دیا ہم نے جلایا ہوا ہے

کون بتلائے اسے اپنا یقیں ہے کہ نہیںوہ جسے ہم نے خدا اپنا بنایا ہوا ہے

یوں ہی دیوانہ بنا پھرتا ہے ورنہ اجملؔدل میں بیٹھا ہوا ہے ذہن پہ چھایا ہوا ہے

— اجمل سراج