6 اشعار

گھوم پھر کر اسی کوچے کی طرف آئیں گے

Ghoom phir kar isi kooche ki taraf aayein ge

گھوم پھر کر اسی کوچے کی طرف آئیں گےدل سے نکلے بھی اگر ہم تو کہاں جائیں گے

ہم کو معلوم تھا یہ وقت بھی آ جائے گاہاں مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ پچھتائیں گے

یہ بھی طے ہے کہ جو بوئیں گے وہ کاٹیں گے یہاںاور یہ بھی کہ جو کھوئیں گے وہی پائیں گے

کبھی فرصت سے ملو تو تمہیں تفصیل کے ساتھامتیاز ہوس و عشق بھی سمجھائیں گے

کہہ چکے ہم ہمیں اتنا ہی فقط کہنا تھاآپ فرمائیے کچھ آپ بھی فرمائیں گے

ایک دن خود کو نظر آئیں گے ہم بھی اجملؔایک دن اپنی ہی آواز سے ٹکرائیں گے

— اجمل سراج