7 اشعار

کسی کے ہجر میں جینا محال ہو گیا ہے

Kisi ke hijr mein jeena muhaal ho gaya hai

کسی کے ہجر میں جینا محال ہو گیا ہےکیسے بتلائیں ہمارا جو حال ہو گیا ہے

کہیں گرا ہے نہ روندا گیا ہے دل پھر بھیشکستہ ہو گیا ہے پائمال ہو گیا ہے

سحر جو آئی ہے شب کے تمام ہونے پرتو اس میں کون سا ایسا کمال ہو گیا ہے

کوئی بھی چیز سلامت نہیں مگر یہ دلشکستگی میں جو اپنی مثال ہو گیا ہے

ادھر چراغ جلے ہیں کسی دریچے میںادھر وظیفۂ دل بھی بحال ہو گیا ہے

حیا کا رنگ جو آیا ہے اس کے چہرے پریہ رنگ حاصل شام وصال ہو گیا ہے

مسافت شب ہجراں میں چاند بھی اجملؔتھکن سے چور غموں سے نڈھال ہو گیا ہے

— اجمل سراج