9 اشعار

ہر نئی شام سہانی تو نہیں ہوتی ہے

Har nayi shaam suhani to nahin hoti hai

ہر نئی شام سہانی تو نہیں ہوتی ہےاور ہر عمر جوانی تو نہیں ہوتی ہے

تم نے احسان کیا تھا سو جتایا تم نےجو محبت ہو جتانی تو نہیں ہوتی ہے

دوستو سچ کہو کب دل کو قرار آئے گاہر گھڑی آس بندھانی تو نہیں ہوتی ہے

دل میں جو آگ لگی ہے وہ لگی رہنے دےیار ہر آگ بجھانی تو نہیں ہوتی ہے

جب بھی ملتے ہیں چٹک اٹھتے ہیں کلیوں کی طرحدوستی ہو تو پرانی تو نہیں ہوتی ہے

بارہا اس کی گلی سے یہ گزر کر سوچاہر گلی چھوڑ کے جانی تو نہیں ہوتی ہے

موج ہوتی ہے کہیں اور بھنور ہوتے ہیںصرف دریا میں روانی تو نہیں ہوتی ہے

دور ہو کر بھی وہ نزدیک ہے قربت یعنیاز رہ قرب مکانی تو نہیں ہوتی ہے

شائبہ جس میں حقیقت کا نہیں ہو اجملؔوہ کہانی بھی کہانی تو نہیں ہوتی ہے

— اجمل سراج