5 اشعار

پیش جو آیا سر ساحل شب بتلایا

Pesh jo aaya sar-e-saahil shab batlaaya

پیش جو آیا سر ساحل شب بتلایاموج غم کو بھی مگر موج طرب بتلایا

ہے بتانے کی کوئی چیز بھلا نام و نسبہم نے پوچھا نہ کبھی نام و نسب بتلایا

رنگ محفل کا عجب ہو گیا جس دم اس نےخامشی کو بھی مری حسن طلب بتلایا

دل کو دنیا سے سروکار کبھی تھا ہی نہیںآنکھ نے بھی مگر اس رخ کو عجب بتلایا

یہ اداسی کا سبب پوچھنے والے اجملؔکیا کریں گے جو اداسی کا سبب بتلایا

— اجمل سراج