5 اشعار

کسی کی قید سے آزاد ہو کے رہ گئے ہیں

Kisi ki qaid se aazad ho ke reh gaye hain

کسی کی قید سے آزاد ہو کے رہ گئے ہیںتباہ ہو گئے برباد ہو کے رہ گئے ہیں

اب اور کیا ہو تمنائے وصل کا انجامدل و دماغ تری یاد ہو کے رہ گئے ہیں

کہیں تو قصۂ احوال مختصر یہ ہےہم اپنے عشق کی روداد ہو کے رہ گئے ہیں

کسی کی یاد دلوں کا قرار ٹھہری ہےکسی کے ذکر سے دل شاد ہو کے رہ گئے ہیں

ترے حضور جو رشک بہار تھے اجملؔخراب و خوار ترے بعد ہو کے رہ گئے ہیں

— اجمل سراج