12 اشعار

جو اشک برسا رہے ہیں صاحب

Jo ashk barsa rahe hain saahib

جو اشک برسا رہے ہیں صاحبیہ رائیگاں جا رہے ہیں صاحب

یہی تغیر تو زندگی ہےعبث گھلے جا رہے ہیں صاحب

جو ہو گیا ہے سو ہو گیا ہےفضول پچھتا رہے ہیں صاحب

یہ صرف گنتی کے چار دن ہیںبڑے مزے آ رہے ہیں صاحب

ابھی تو یہ خاک ہو رہے گاجو جسم چمکا رہے ہیں صاحب

کوئی ارادہ نہ کوئی جادہکہاں کدھر جا رہے ہیں صاحب

ادھر ذرا غور سے تو دیکھیںیہ پھول مرجھا رہے ہیں صاحب

جہاں کی نایافت کے سبب میںجہاں کا غم کھا رہے ہیں صاحب

یہ میں نہیں ہوں یہ میرا دل ہےیہ کس کو سمجھا رہے ہیں صاحب

سکون کی نیند سوئیے گاوہ دن بھی بس آ رہے ہیں صاحب

جو آپ کے ہجر میں ملے ہیںیہ دن گنے جا رہے ہیں صاحب

بس اب نہیں کچھ بھی یاد مجھ کوبس آپ یاد آ رہے ہیں صاحب

— اجمل سراج