7 اشعار

نظر آ رہے ہیں جو تنہا سے ہم

Nazar aa rahe hain jo tanha se hum

نظر آ رہے ہیں جو تنہا سے ہمسو یوں ہے کہ بھر پائے دنیا سے ہم

نہ پروا ہمیں حال بے حال کینہ شرمندہ عمر گزشتہ سے ہم

بھلا کوئی کرتا ہے مردوں سے باتکہیں کیا دل بے تمنا سے ہم

نظر میں ہے جب سے سراپا تراجبھی سے ہیں کچھ بے سر و پا سے ہم

کوئی جل پری کیا پری بھی نہ آئیمگر خوش ہوئے رات دریا سے ہم

تماشائی شش جہت ہیں سو ہیںخود اپنے لیے بھی تماشا سے ہم

سمجھنا تھا دنیا کو یوں بھی محالسمجھتے تھے دنیا کو دنیا سے ہم

— اجمل سراج