4 اشعار

جو کل حیران تھے ان کو پریشاں کر کے چھوڑوں گا

Jo kal hairaan the un ko pareshaan kar ke chhoroon ga

جو کل حیران تھے ان کو پریشاں کر کے چھوڑوں گامیں اب آئینۂ ہستی کو حیراں کر کے چھوڑوں گا

دکھا دوں گا تماشا دی اگر فرصت زمانے نےتماشائے فراواں کو فراواں کر کے چھوڑوں گا

کیا تھا عشق نے تاراج جس صحن گلستاں کومیں اب اس پر محبت کو نگہباں کر کے چھوڑوں گا

عیاں ہے جو ہر اک ذرے میں ہر خورشید میں اجملؔمیں اس پردہ نشیں کو اب نمایاں کر کے چھوڑوں گا

— اجمل سراج