6 اشعار

شام اپنی بے مزا جاتی ہے روز

Shaam apni be-maza jaati hai roz

شام اپنی بے مزا جاتی ہے روزاور ستم یہ ہے کہ آ جاتی ہے روز

کوئی دن آساں نہیں جاتا مراکوئی مشکل آزما جاتی ہے روز

مجھ سے پوچھے کوئی کیا ہے زندگیمیرے سر سے یہ بلا جاتی ہے روز

جانے کس کی سرخ روئی کے لیےخوں میں یہ دھرتی نہا جاتی ہے روز

گیت گاتے ہیں پرندے صبح و شامیا سماعت چہچہا جاتی ہے روز

دیکھنے والوں کو اجملؔ زندگیرنگ کتنے ہی دکھا جاتی ہے روز

— اجمل سراج