10 اشعار

میں وہ درخت ہوں کھاتا ہے جو بھی پھل میرے

Main woh darakht hoon khaata hai jo bhi phal mere

میں وہ درخت ہوں کھاتا ہے جو بھی پھل میرےضرور مجھ سے یہ کہتا ہے ساتھ چل میرے

یہ کائنات تصرف میں تھی رہے جب تکنظر بلند مری فیصلے اٹل میرے

مجھے نہ دیکھ مری بات سن کہ مجھ سے ہیںکہیں کہیں متصادم بھی کچھ عمل میرے

بچا ہی کیا ہوں میں آواز رہ گیا ہوں فقطچرا کے رنگ تو سب لے گئی غزل میرے

یہ تب کی بات ہے جب تم سے رابطہ بھی نہ تھاابھی ہوئے نہ تھے اشعار مبتذل میرے

یہ خوف مجھ کو اڑاتا ہے وقت کے مانندکہ بیٹھنے سے نہ ہو جائیں پاؤں شل میرے

وہ دن تھے اور نہ جانے وہ کون سے دن تھےترے بغیر گزرتے نہیں تھے پل میرے

کبھی ملے گا کہیں شہر خواب سے باہراگر نہیں تو خیالوں سے بھی نکل میرے

میں کس طرح کا ہوں یہ تو بتا نہیں سکتامگر یہ طے ہے کہ ہیں یار بے بدل میرے

جلا ہوں ہجر کے شعلوں میں بارہا اجملمگر میں عشق ہوں جاتے نہیں ہیں بل میرے

— اجمل سراج