10 اشعار

تیرے سوا کسی کی تمنا کروں گا میں

Tere siwa kisi ki tamanna karun ga main

تیرے سوا کسی کی تمنا کروں گا میںایسا کبھی ہوا ہے جو ایسا کروں گا میں

گو غم عزیز ہے مجھے تیرے فراق کاپھر بھی اس امتحان کا شکوہ کروں گا میں

آنکھوں کو اشک و خوں بھی فراہم کروں گا میںدل کے لیے بھی درد مہیا کروں گا میں

راحت بھی رنج، رنج بھی راحت ہو جب تو پھرکیا اعتبار خواہش دنیا کروں گا میں

رکھا ہے کیا جہان میں یہ اور بات ہےیہ اور بات ہے کہ تقاضا کروں گا میں

یہ رہ گزر کہ جائے قیام و قرار تھییعنی اب اس گلی سے بھی گزرا کروں گا میں

یعنی کچھ اس طرح کہ تجھے بھی خبر نہ ہواس احتیاط سے تجھے دیکھا کروں گا میں

ہے دیکھنے کی چیز تو یہ التفات بھیدیکھو گے تم گریز بھی ایسا کروں گا میں

حیران و دل شکستہ ہوں اس حال زار پرکب جانتا تھا اپنا تماشا کروں گا میں

ہاں کھینچ لوں گا وقت کی زنجیر پاؤں سےاب کے بہار آئی تو ایسا کروں گا میں

— اجمل سراج