5 اشعار

آہ جو دل سے نکالی جائے گی

Aah jo dil se nikali jaegi

آہ جو دل سے نکالی جائے گی

«آہ جو دل سے نکالی جائے گی» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔

آہ جو دل سے نکالی جائے گیکیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی

اس نزاکت پر یہ شمشیر جفاآپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی

کیا غم دنیا کا ڈر مجھ رند کواور اک بوتل چڑھا لی جائے گی

شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیااحتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی

یاد ابرو میں ہے اکبرؔ محو یوںکب تری یہ کج خیالی جائے گی

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں