7 اشعار

بوسۂ زُلفِ سِیاہ فام مِلے گا کہ نہیں

Bosa zulf-e-siyah faam milega ke nahin

بوسۂ زُلفِ سِیاہ فام مِلے گا کہ نہیں

«بوسۂ زُلفِ سِیاہ فام مِلے گا کہ نہیں» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

بَوسۂ زُلفِ سِیاہ فام مِلے گا کہ نہیںدِل کا سودا ہے، مُجھے دام مِلے گا کہ نہیں

خط میں کیا لکِھّا ہے، قاصد کو خبر کیا اِس کیپُوچھتا ہے، مُجھے اِنعام مِلے گا کہ نہیں

مَیں تِری مست نَظر کا ہُوں دُعاگو، ساقیصدقہ آنکھوں کا کوئی جام مِلے گا کہ نہیں

قبر پر فاتحہ پڑھنے کو نہ آئیں گے وہ کیاجان دینے کا کُچھ اِنعام مِلے گا کہ نہیں

بُو کِسی سمت سے آتی نہیں ہمدردی کیمُجھ کو، مُجھ سا کوئی ناکام مِلے گا کہ نہیں

جُستجُو ہی میں وہ لذّت ہے کہ، اللہ اللہکیوں مَیں پُوچُھوں، وہ دِلآرام مِلے گا کہ نہیں

آرزُو مرگ کی تم کرتے ہو اکبرؔ، لیکن!سوچ لَو، قبر میں آرام مِلے گا کہ نہیں

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں