7 اشعار

تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا

Tum ne beemar-e-mohabbat ko abhi kya dekha

تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا

«تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھاجو یہ کہتے ہوئے جاتے ہو کہ دیکھا دیکھا

طفل دل کو مرے کیا جانے لگی کس کی نظرمیں نے کمبخت کو دو دن بھی نہ اچھا دیکھا

لے گیا تھا طرف گور غریباں دل زارکیا کہیں تم سے جو کچھ واں کا تماشا دیکھا

وہ جو تھے رونق آبادیٔ گلزار جہاںسر سے پا تک انہیں خاک رہ صحرا دیکھا

کل تلک محفل عشرت میں جو تھے صدر نشیںقبر میں آج انہیں بیکس و تنہا دیکھا

بسکہ نیرنگی عالم پہ اسے حیرت تھیآئینہ خاک سکندر کو سراپا دیکھا

سر جمشید کے کاسے میں بھری تھی حسرتیاس کو معتکف تربت دارا دیکھا

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں