7 اشعار

دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا

Dil mera jis se behalta koi aisa na mila

دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا

«دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملابت کے بندے ملے اللہ کا بندا نہ ملا

بزم یاراں سے پھری باد بہاری مایوسایک سر بھی اسے آمادۂ سودا نہ ملا

گل کے خواہاں تو نظر آئے بہت عطر فروشطالب زمزمۂ بلبل شیدا نہ ملا

واہ کیا راہ دکھائی ہے ہمیں مرشد نےکر دیا کعبہ کو گم اور کلیسا نہ ملا

رنگ چہرے کا تو کالج نے بھی رکھا قائمرنگ باطن میں مگر باپ سے بیٹا نہ ملا

سید اٹھے جو گزٹ لے کے تو لاکھوں لائےشیخ قرآن دکھاتے پھرے پیسا نہ ملا

ہوشیاروں میں تو اک اک سے سوا ہیں اکبرؔمجھ کو دیوانوں میں لیکن کوئی تجھ سا نہ ملا

— اکبر اللہ آبادی