5 اشعار

ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی

Khatm kiya saba ne raqs-e-gul pe nisaar ho chuki

ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی

«ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکیجوش نشاط ہو چکا صوت ہزار ہو چکی

رنگ بنفشہ مٹ گیا سنبل تر نہیں رہاصحن چمن میں زینت نقش و نگار ہو چکی

مستی لالہ اب کہاں اس کا پیالہ اب کہاںدور طرب گزر گیا آمد یار ہو چکی

رت وہ جو تھی بدل گئی آئی بس اور نکل گئیتھی جو ہوا میں نکہت مشک تتار ہو چکی

اب تک اسی روش پہ ہے اکبرؔ مست و بے خبرکہہ دے کوئی عزیز من فصل بہار ہو چکی

— اکبر اللہ آبادی