7 اشعار

خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے

Khushi hai sab ko ke operation mein khoob nishtar yeh chal raha hai

خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے

«خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہےکسی کو اس کی خبر نہیں ہے مریض کا دم نکل رہا ہے

فنا اسی رنگ پر ہے قائم فلک وہی چال چل رہا ہےشکستہ و منتشر ہے وہ کل جو آج سانچے میں ڈھل رہا ہے

یہ دیکھتے ہو جو کاسۂ سر غرور غفلت سے کل تھا مملویہی بدن ناز سے پلا تھا جو آج مٹی میں گل رہا ہے

سمجھ ہو جس کی بلیغ سمجھے نظر ہو جس کی وسیع دیکھےابھی یہاں خاک بھی اڑے گی جہاں یہ قلزم ابل رہا ہے

کہاں کا شرقی کہاں کا غربی تمام دکھ سکھ ہے یہ مساوییہاں بھی اک بامراد خوش ہے وہاں بھی اک غم سے جل رہا ہے

عروج قومی زوال قومی خدا کی قدرت کے ہیں کرشمےہمیشہ رد و بدل کے اندر یہ امر پولٹیکل رہا ہے

مزہ ہے اسپیچ کا ڈنر میں خبر یہ چھپتی ہے پانیر میںفلک کی گردش کے ساتھ ہی ساتھ کام یاروں کا چل رہا ہے

— اکبر اللہ آبادی