سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوںیہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں
بحر ہستی میں ہوں مثال حبابمٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)
مہمان شاعر: اکبر اللہ آبادی
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوںیہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں
بحر ہستی میں ہوں مثال حبابمٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں
صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہیلیکن خدا کی بات جہاں تھی وہیں رہی
زور آزمائیاں ہوئیں سائنس کی بھی خوبطاقت بڑھی کسی کی کسی میں نہیں رہی
اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئےگو بت ہیں آپ بہر خدا مان لیجئے
دل لے کے کہتے ہیں تری خاطر سے لے لیاالٹا مجھی پہ رکھتے ہیں احسان لیجئے
بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاںاکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہواکہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا
تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھاجو یہ کہتے ہوئے جاتے ہو کہ دیکھا دیکھا
طفل دل کو مرے کیا جانے لگی کس کی نظرمیں نے کمبخت کو دو دن بھی نہ اچھا دیکھا
گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دنادھر تو آؤ مرے گلعذار عید کے دن
غضب کا حسن ہے آرائشیں قیامت کیعیاں ہے قدرت پروردگار عید کے دن