یوں کوئی چھوڑ دیا کرتا ھے اپنا کر کے
کلام: اختر شمار
یوں کوئی چھوڑ دیا کرتا ھے اپنا کر کےتم نے تو مار دیا ھے مجھے تنہا کر کے
اک نظر ڈال کبھی میرے مسیحا مجھ پرتیرا کیا جائے گا بیمار کو اچھا کر کے
تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار
مہمان شاعر: اختر شمار
یوں کوئی چھوڑ دیا کرتا ھے اپنا کر کےتم نے تو مار دیا ھے مجھے تنہا کر کے
اک نظر ڈال کبھی میرے مسیحا مجھ پرتیرا کیا جائے گا بیمار کو اچھا کر کے
حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئےیہ دل ملول تھا آزار سے نکلتے ہوئے
بڑی ہی دیر تلک دھوپ مجھ کو چھو نہ سکیتمہارے سایۂ دیوار سے نکلتے ہوئے
میرے دل سے سلوک ایسا ہی ہونا چاہیے تھااسے بھی توڑنے کو اک کھلونا چاہئیے تھا
کہاں یہ کونے کونے میں لیے پھرتی ہے گردشمجھے تو بیٹھنے کو اک کونا چاہئیے تھا