اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا
کلام: اختر شمار
اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھاتب جا کر وہ خون کا دریا پار کیا تھا
پتھر پھینک کے لوگوں نے جب عزت بخشیہم نے اپنے ہاتھوں کو دستار کیا تھا
تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار
مہمان شاعر: اختر شمار
اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھاتب جا کر وہ خون کا دریا پار کیا تھا
پتھر پھینک کے لوگوں نے جب عزت بخشیہم نے اپنے ہاتھوں کو دستار کیا تھا
خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسےدل مرا کوئے ملامت سے نکلتا کیسے
سایۂ وہم و گماں چار طرف پھیلا ہےمیں ابھی کرب و اذیت سے نکلتا کیسے