غزل 7 اشعار

جام لا جام کہ آلام سے جی ڈرتا ہے

Jam la jam ki aalam se ji darta hai

جام لا جام کہ آلام سے جی ڈرتا ہےاثر گردش ایام سے جی ڈرتا ہے

لب پہ اب عارض و گیسو کے فسانے کیا ہوںفتنہ ہائے سحر و شام سے جی ڈرتا ہے

تجھ کو میں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں در و بام سے دوراب تجلئ در و بام سے جی ڈرتا ہے

گل کھلائے نہ کہیں فتنۂ دوراں کچھ اورآج کل دور مے و جام سے جی ڈرتا ہے

نگہ مست کے قربان مری سمت نہ دیکھموجۂ بادۂ گلفام سے جی ڈرتا ہے

چھوڑ کر راہ میں بت خانے گزر جاتا ہوںہوش میں جلوۂ اصنام سے جی ڈرتا ہے

رات کی ظلمتیں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیںاخترؔ اپنا تو سر شام سے جی ڈرتا ہے

— اختر انصاری اکبر آبادی