غزل 7 اشعار

رہبر طبل و نشاں اور ذرا تیز قدم

Rahbar-e-tabl-o-nishan aur zara tez qadam

رہبر طبل و نشاں اور ذرا تیز قدمہاں مرے عزم جواں اور ذرا تیز قدم

اس اندھیرے سے نہ گھبرا کہ ذرا اور آگےہے چراغاں کا سماں اور ذرا تیز قدم

کہیں مایوس نہ ہونا جو نگاہوں سے ابھیان کی محفل ہے نہاں اور ذرا تیز قدم

یہ یقیں ہے کہ پہنچ جائیں گے ان تک اک دنچلئے بے وہم و گماں اور ذرا تیز قدم

بجھ نہ جائیں رہ ہستی میں تمنا کے چراغخواجۂ راہرواں اور ذرا تیز قدم

کس بلندی پہ رواں تم ہو زمیں کے ذروہیں ستارے نگراں اور ذرا تیز قدم

مل ہی جائے گا کہیں شہر نگاراں اخترؔاے پرستار بتاں اور ذرا تیز قدم

— اختر انصاری اکبر آبادی