غزل 7 اشعار

ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کر

Nadim bagh mein josh-e-numu ki baat na kar

ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کربہار آ تو گئی رنگ و بو کی بات نہ کر

عجیب بھول بھلیاں ہے شاہراہ حیاتبھٹکنے والے یہاں جستجو کی بات نہ کر

تباہ کر نہ مذاق جنوں کی خودداریدل تباہ کسی تند خو کی بات نہ کر

خود اپنے طرز عمل کو سنوار اور سنوارمرے رفیق طریق عدو کی بات نہ کر

گریز حسن کو انداز حسن کہتے ہیںنظر سے دیکھ مگر خوبرو کی بات نہ کر

یہ برق حسن جلاتی تو ہے مگر ناصحوہ اور شے ہے مرے شعلہ خو کی بات نہ کر

یہ میکدے کی فضا کہہ رہی ہے اے اخترؔکہ تشنگی میں بھی جام و سبو کی بات نہ کر

— اختر انصاری اکبر آبادی