غزل 6 اشعار

یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلے

Ye rang-o-kaif kahan tha shabab se pahle

یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلےنظر کچھ اور تھی موج شراب سے پہلے

نہ جانے حال ہو کیا دور اضطراب کے بعدسکوں ملا نہ کبھی اضطراب سے پہلے

وہی غریب ہیں خانہ خراب سے اب بھیرواں دواں تھے جو خانہ خراب سے پہلے

وہی ہے حشر کا عالم اب انقلاب کے بعدجو حشر اٹھا تھا یہاں انقلاب سے پہلے

ملی ہے تجھ سے تو محسوس ہو رہی ہے نظرنظر کہاں تھی ترے انتخاب سے پہلے

تباہ حال زمانے کو دیکھیے اخترؔنظر اٹھائیے جام شراب سے پہلے

— اختر انصاری اکبر آبادی