غزل 9 اشعار

سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کو

Sahaara de nahin sakte shikasta panw ko

سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کوہٹاؤ راہ محبت سے رہنماؤں کو

بنا رہا ہوں حسیں اور مہ لقاؤں کوسجا رہا ہوں میں آفاق کی فضاؤں کو

نظر نظر سے ملاتا ہوں مسکراتا ہوںجنوں کی شان دکھاتا ہوں دل رباؤں کو

قدم قدم پہ نئے انقلاب رقصاں ہیںدعائیں دیتے ہیں ہم آپ کی اداؤں کو

ملا جو دامن ساحل تو ایسی موج آئیسفینے سونپ دئیے ہم نے ناخداؤں کو

نگاہ پھیرنے والوں سے پوچھتا ہوں میںتم آزماؤ گے کب تک مری وفاؤں کو

ابھی تو دشت و دمن میں بہار آئی ہےابھی چمن میں کھلانے ہیں گل ہواؤں کو

چلے ہیں جانب دار و رسن خراباتیگنہ کا رنگ دکھانا ہے پارساؤں کو

ہر ایک لمحۂ نو کا اب احترام کرونیا پیام دو اخترؔ نئی فضاؤں کو

— اختر انصاری اکبر آبادی