غزل 9 اشعار

اس طرف حادثوں کو آنے دو

Is taraf hadson ko aane do

اس طرف حادثوں کو آنے دوہمت دل کو آزمانے دو

اہل ساحل کو مسکرانے دوکشتیوں کو بھنور میں آنے دو

جو بہاروں کو زندگی دیں گےان شگوفوں کو مسکرانے دو

ہم سکھائیں گے ان کو راہبریرہزنوں کو قریب آنے دو

ان کی نظروں کے رخ بھی دیکھوں گامرے دل کو سکون پانے دو

موت شرمائے گی لجائے گیزندگانی کو غم اٹھانے دو

گلشنوں میں بہار سے پہلےکچھ خزاں کو بھی گل کھلانے دو

روشنی تیرگی سے بہتر ہےان چراغوں کو جھلملانے دو

تم بھی کچھ گنگناؤ اے اخترؔکچھ فضاؤں کو گنگنانے دو

— اختر انصاری اکبر آبادی