غزل 5 اشعار

نہ زلف شام نہ روئے سحر کو دیکھتے ہیں

Na zulf-e-sham na ru-e-sahar ko dekhte hain

نہ زلف شام نہ روئے سحر کو دیکھتے ہیںہم اہل شوق تمہاری نظر کو دیکھتے ہیں

ہجوم رحمت پروردگار کیا کہیےمقام عظمت دامان تر کو دیکھتے ہیں

ہیں نو اسیر گمان و یقین کے پھندے میںکبھی قفس کو کبھی بال و پر کو دیکھتے ہیں

اب اہل ہوش پہ ٹوٹے ہیں حیرتوں کے پہاڑمرے جنون وفا کے اثر کو دیکھتے ہیں

قدم قدم پہ نظر آ گئی ہمیں منزلوہ اور لوگ ہیں جو رہ گزر کو دیکھتے ہیں

— اختر انصاری اکبر آبادی