غزل 10 اشعار

ظلمت کدوں میں کل جو شعاع سحر گئی

Zulmat-kadon mein kal jo shu'a-e-sehar gai

ظلمت کدوں میں کل جو شعاع سحر گئیتاریکی حیات یکایک ابھر گئی

نظارۂ جمال کی فرصت کہاں ملیپہلی نظر نظر کی حدوں سے گزر گئی

اظہار التفات کے بعد ان کی بے رخیاک رنگ اور نقش تمنا میں بھر گئی

ذوق جنوں و جذبۂ بیباک کیا ملےویران ہو کے بھی مری دنیا سنور گئی

اب دور کارسازی وحشت نہیں رہااب آرزوئے لذت رقص شرر گئی

اک داغ بھی جبیں پہ میری آ گیا تو کیاشوخی تو ان کے نقش قدم کی ابھر گئی

تارے سے جھلملاتے ہیں مژگان یار پرشاید نگاہ یاس بھی کچھ کام کر گئی

تم نے تو اک کرم ہی کیا حال پوچھ کراب جو گزر گئی مرے دل پر گزر گئی

جلوے ہوئے جو عام تو تاب نظر نہ تھیپردے پڑے ہوئے تھے جہاں تک نظر گئی

سارا قصور اس نگہ فتنہ جو کا تھالیکن بلا نگاہ تمنا کے سر گئی

— علی جواد زیدی