14 اشعار

جبریل و ابلیس

جبریل و ابلیس

جبریل و ابلیس

«جبریل و ابلیس» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے سعدیہ لطیف نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 59 سیکنڈ ہے۔

جبرئیلہمدم دیرینہ کیسا ہے جہان رنگ و بو

ابلیسسوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزو

جبرئیلہر گھڑی افلاک پر رہتی ہے تیری گفتگو

کیا نہیں ممکن کہ تیرا چاک دامن ہو رفوابلیس

آہ اے جبریل تو واقف نہیں اس راز سےکر گیا سرمست مجھ کو ٹوٹ کر میرا سبو

اب یہاں میری گزر ممکن نہیں ممکن نہیںکس قدر خاموش ہے یہ عالم بے کاخ و کو

جس کی نومیدی سے ہو سوز درون کائناتاس کے حق میں تقنطو اچھا ہے یا لاتقنطوا

جبرئیلکھو دیئے انکار سے تو نے مقامات بلند

چشم یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبروابلیس

ہے مری جرأت سے مشت خاک میں ذوق نمومیرے فتنے جامۂ عقل و خرد کا تار و پو

دیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزم خیر و شرکون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے میں کہ تو

خضر بھی بے دست و پا الیاس بھی بے دست و پامیرے طوفاں یم بہ یم دریا بہ دریا جو بہ جو

گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سےقصۂ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو

میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرحتو فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں