8 اشعار

ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن

ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن

ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن

«ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے ریبل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آنگُفتار میں، کردار میں، اللہ کی برُہان!

قہاّری و غفاّری و قدّوسی و جبروتیہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

ہمسایۂ جِبریلِ امیں بندۂ خاکیہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشان

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومنقاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قُرآن!

قُدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادےدُنیا میں بھی میزان، قیامت میں بھی میزان

جس سے جگَرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنمدریاؤں کے دِل جس سے دہَل جائیں، وہ طوفان

فطرت کا سرودِ اَزلی اس کے شب و روزآہنگ میں یکتا صفَتِ سورۂ رحمٰن

بنتے ہیں مری کارگہِ فکر میں انجملے اپنے مقدّر کے ستارے کو تو پہچان!

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں