نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوں
کلام: عشرت آفریں
نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوںکہ لالۂ دشت بے شجر ہوں
یہ زرد پھولوں کے کنج دیکھویہاں بھی آؤ کہ میں ادھر ہوں
تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں
مہمان شاعر: عشرت آفریں
نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوںکہ لالۂ دشت بے شجر ہوں
یہ زرد پھولوں کے کنج دیکھویہاں بھی آؤ کہ میں ادھر ہوں
خون ناحق کی طرح گلیوں میں جب بہتی ہے راتذرہ ذرہ چیختا ہے اور چپ رہتی ہے رات
پارساؤں کے حرم آباد رکھنے کے لئےداشتاؤں کی طرح ہنس ہنس کے دکھ سہتی ہے رات
ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارااس دشت سے بہتر ہے نہ دِلّی نہ بخارا
جس سمت میں چاہے صفَتِ سیلِ رواں چلوادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا