5 اشعار

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم

Ishq se paida nawa-e-zindagi mein zer-o-bam

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم

«عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بمعشق سے مٹی کی تصویروں میں سوز دمبدم

آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشقشاخ گل میں جس طرح باد سحرگاہی کا نم

اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاج ملوکاور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و جم

دل کی آزادی شہنشاہی شکم سامان موتفیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم

اے مسلماں اپنے دل سے پوچھ ملا سے نہ پوچھہو گیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم

— علامہ اقبال