7 اشعار

اک دانش نورانی اک دانش برہانی

Ek Danish-e-Noorani ek Danish-e-Burhani

اک دانش نورانی اک دانش برہانی

«اک دانش نورانی اک دانش برہانی» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

اک دانش نورانی اک دانش برہانیہے دانش برہانی حیرت کی فراوانی

اس پیکر خاکی میں اک شے ہے سو وہ تیریمیرے لیے مشکل ہے اس شے کی نگہبانی

اب کیا جو فغاں میری پہنچی ہے ستاروں تکتو نے ہی سکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی

ہو نقش اگر باطل تکرار سے کیا حاصلکیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی

مجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقیاس دور کے ملا ہیں کیوں ننگ مسلمانی

تقدیر شکن قوت باقی ہے ابھی اس میںناداں جسے کہتے ہیں تقدیر کا زندانی

تیرے بھی صنم خانے میرے بھی صنم خانےدونوں کے صنم خاکی دونوں کے صنم فانی

— علامہ اقبال