7 اشعار

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

Khirad ke paas khabar ke siwa kuch aur nahin

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

«خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیںترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیراحیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں

گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہگہر میں آب گہر کے سوا کچھ اور نہیں

رگوں میں گردش خوں ہے اگر تو کیا حاصلحیات سوز جگر کے سوا کچھ اور نہیں

عروس لالہ مناسب نہیں ہے مجھ سے حجابکہ میں نسیم سحر کے سوا کچھ اور نہیں

جسے کساد سمجھتے ہیں تاجران فرنگوہ شے متاع ہنر کے سوا کچھ اور نہیں

بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکنعطائے شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں

— علامہ اقبال