6 اشعار

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

Khurd-mandon se kya poochhun ke meri ibtida kya hai

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

«خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہےکہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

مقام گفتگو کیا ہے اگر میں کیمیا گر ہوںیہی سوز نفس ہے اور میری کیمیا کیا ہے

نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میںنہ پوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشم سرمہ سا کیا ہے

اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میںتو اقبالؔ اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے

نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میراخدایا جس خطا کی یہ سزا ہے وہ خطا کیا ہے

— علامہ اقبال