دیواروں پر سائے سے لہراتے تھے
کلام: عشرت آفریں
دیواروں پر سائے سے لہراتے تھےلوگ اس کی تصویریں دیکھنے آتے تھے
اس بستی میں مجھ کو بھی لے جانا تھاجس بستی میں چاند بدن گہناتے تھے
تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں
مہمان شاعر: عشرت آفریں
دیواروں پر سائے سے لہراتے تھےلوگ اس کی تصویریں دیکھنے آتے تھے
اس بستی میں مجھ کو بھی لے جانا تھاجس بستی میں چاند بدن گہناتے تھے
شہر پر رات کا شباب اترےمجھ پہ تنہائی کا عذاب اترے
آنکھیں برسیں تو ٹوٹ کر برسیںدھوپ اترے تو بے حساب اترے
کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!بے محل بِگڑا ہے معصومانِ یورپ کا مزاج
مَیں پھٹکتا ہُوں تو چھَلنی کو بُرا لگتا ہے کیوںہیں سبھی تہذیب کے اوزار! تُو چھَلنی، مَیں چھاج