9 اشعار

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

Zahir ki aankh se na tamasha kare koi

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

«ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئیہو دیکھنا تو دیدہء دل وا کرے کوئی

منصور کو ہوا لب گویا پیام موتاب کیا کسی کے عشق کا دعوی کرے کوئی

ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کرہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی

میں انتہائے عشق ہوں ، تو انتہائے حسندیکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی

عذر آفرین جرم محبت ہے حسن دوستمحشر میں عذر تازہ نہ پیدا کرے کوئی

چھپتی نہیں ہے یہ نگہ شوق ہم نشیںپھر اور کس طرح انھیں دیکھا کر ے کوئی

اڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طور پر کلیمطاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی

نظارے کو یہ جنبش مژگاں بھی بار ہےنرگس کی آنکھ سے تجھے دیکھا کرے کوئی

کھل جائیں ، کیا مزے ہیں تمنائے شوق میںدو چار دن جو میری تمنا کرے کوئی

— علامہ اقبال