7 اشعار

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی

Yeh payam de gai hai mujhe baad-e-subh-gahi

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی

«یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہیکہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی

تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سےجو رہی خودی تو شاہی نہ رہی تو رو سیاہی

نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نےمجھے کیا گلہ ہو تجھ سے تو نہ رہ نشیں نہ راہی

مرے حلقۂ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیںوہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسم کج کلاہی

یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کرکہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی

تو ہما کا ہے شکاری ابھی ابتدا ہے تیرینہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی

تو عرب ہو یا عجم ہو ترا لا الٰہ الالغت غریب جب تک ترا دل نہ دے گواہی

— علامہ اقبال