8 اشعار

چلتے چلتے یہ گلی بے جان ہوتی جائے گی

Chalte chalte ye gali be-jaan hoti jaayegi

چلتے چلتے یہ گلی بے جان ہوتی جائے گیرات ہوتی جائے گی سنسان ہوتی جائے گی

دیکھنا کیا ہے نظر انداز کرنا ہے کسےمنظروں کی خود بہ خود پہچان ہوتی جائے گی

اس کے چہرے پر مسلسل آنکھ رک سکتی نہیںآنکھ بار حسن سے ہلکان ہوتی جائے گی

سوچ لو یہ دل لگی بھاری نہ پڑ جائے کہیںجان جس کو کہہ رہے ہو جان ہوتی جائے گی

کر ہی کیا سکتی ہے دنیا اور تجھ کو دیکھ کردیکھتی جائے گی اور حیران ہوتی جائے گی

کاکل خم دار میں خم اور آتے جائیں گےزلف اس کی اور بھی شیطان ہوتی جائے گی

آتے آتے عشق کرنے کا ہنر آ جائے گارفتہ رفتہ زندگی آسان ہوتی جائے گی

جا چکیں خوشیاں تو اب غم ہجرتیں کرنے لگےدل کی بستی اس طرح ویران ہوتی جائے گی

— امیر امام