5 اشعار

بن کے سایہ ہی سہی سات تو ہوتی ہوگی

Ban ke saaya hi sahi, saath to hoti hogi

بن کے سایہ ہی سہی سات تو ہوتی ہوگیکم سے کم تجھ میں تری ذات تو ہوتی ہوگی

یہ الگ بات کوئی چاند ابھرتا نہ ہو ابدل کی بستی میں مگر رات تو ہوتی ہوگی

دھوپ میں کون کسے یاد کیا کرتا ہےپر ترے شہر میں برسات تو ہوتی ہوگی

ہم تو صحرا میں ہیں تم لوگ سناؤ اپنیشہر سے روز ملاقات تو ہوتی ہوگی

کچھ بھی ہو جائے مگر تیرے طرفدار ہیں سبزندگی تجھ میں کوئی بات تو ہوتی ہوگی

— امیر امام