6 اشعار

گلیوں میں آہٹوں کے مچلنے کا وقت تھا

Galiyon mein aahaṭon ke machalne ka waqt tha

گلیوں میں آہٹوں کے مچلنے کا وقت تھااک اور شام رات میں ڈھلنے کا وقت تھا

اس وقت پھر ہمارے قدم لڑکھڑا گئےجو وقت لڑکھڑا کے سنبھلنے کا وقت تھا

آنکھوں سے خواب رات سے تارے ہوا سے تماک دوسرے سے سب کے نکلنے کا وقت تھا

اک رات درمیان رکھی تھی جمی ہوئیپگھلی نہیں گو اس کے پگھلنے کا وقت تھا

لوگ ایک دوسرے سے بچھڑتے چلے گئےوہ راستوں کے راہ بدلنے کا وقت تھا

یہ تو تمہارے کھیلنے کھانے کے روز تھےیہ تو تمہارے پھولنے پھلنے کا وقت تھا

— امیر امام