5 اشعار

یاد آنکھوں کو بہت اک خواب آئے گا

Yaad aankhon ko bahut ek khwab aayega

یاد آنکھوں کو بہت اک خواب آئے گارات ہوگی بام پر مہتاب آئے گا

خشک لب کہتے ہیں اب بارش نہیں ہوگیچشم نم کہتی ہے اک سیلاب آئے گا

کنکری مارے گی جب اک یاد کی آہٹخامشی کی نہر میں گرداب آئے گا

کیوں سمندر میں کسی کاغذ کی ناؤ کویاد اپنے گاؤں کا تالاب آئے گا

اور دبے پاؤں ادھر آ جائے گا سورجرات کی دیوار میں اک باب آئے گا

— امیر امام