7 اشعار

سوال دست گدائی پہ ختم ہوتا ہے

Sawal dast-e-gadaai pe khatm hota hai

سوال دست گدائی پہ ختم ہوتا ہےیہ شہر خود سے لڑائی پہ ختم ہوتا ہے

مسافران محبت کو منزلیں کب ہیںسفر یہ آبلہ پائی پہ ختم ہوتا ہے

خدا خدا ہے کہ محدود ہو نہیں سکتاخدا کہاں جو خدائی پہ ختم ہوتا ہے

کبھی وصال پہ ہوتا ہے اختتام اس کاکبھی یہ عشق جدائی پہ ختم ہوتا ہے

مرا جہان مری چشم خوں فشاں ہو کرکسی کے دست حنائی پہ ختم ہوتا ہے

صدائے جاں کے تعاقب کا سلسلہ اک دنخموشیوں کی رسائی پہ ختم ہوتا ہے

کسی خیال سے اب تک جو اک تعلق تھاکچھ آنسوؤں کی رہائی پہ ختم ہوتا ہے

— امیر امام