6 اشعار

دھمال وہ پڑا کہ بدن پست ہو گیا

Dhamaal wo pada ke badan past ho gaya

دھمال وہ پڑا کہ بدن پست ہو گیاآئی جو مجھ کو ہجر کی بو مست ہو گیا

سب تیر میرے قلب سے ہو کر گزر گئےلیکن وہ ایک تیر کہ پیوست ہو گیا

پھر ایک بار دولت دیدار دے کہ میںاے بادشاہ حسن تہی دست ہو گیا

وہ فاصلہ ابد سے ازل تک کا فاصلہنکلا جو اپنے آپ سے اک جست ہو گیا

اشکوں کی ایک اور بغاوت کچل گئیآنکھوں کا پھر درست در و بست ہو گیا

جی بھی لیا نہ آئی مجھے موت جب تلکیہ ایک اور کام سر دست ہو گیا

— امیر امام