6 اشعار

صحرا سمیٹ لیں یہ سمندر سمیٹ لیں

Sehra sameṭ lein ye samandar sameṭ lein

صحرا سمیٹ لیں یہ سمندر سمیٹ لیںآنکھیں تمام پیاس کے منظر سمیٹ لیں

اے صبح تھوڑی دیر کی مہلت کہ راہگیرجاتے ہیں بس یہ رات کا بستر سمیٹ لیں

ہر صبح خود کو جسم کے باہر بکھیر کرہر شام خود کو جسم کے اندر سمیٹ لیں

سر پر اس آسمان کے ہونے سے فائدہبہتر ہے یہ پھٹی ہوئی چادر سمیٹ لیں

ہنستے ہیں ہم کو دیکھ کے اہل قفس مگرپر پھڑپھڑائے جائیں گے کیا پر سمیٹ لیں

اس خامشی میں آج بھی وسعت ہے اس قدربڑھ کر ہوائے وقت کی صرصر سمیٹ لیں

— امیر امام