6 اشعار

سلگتی دھوپ برستی گھٹا نہیں آئی

Sulagti dhoop barasti ghaṭa nahin aayi

سلگتی دھوپ برستی گھٹا نہیں آئیہمارے جسم پہ کوئی قبا نہیں آئی

تمھارے ساتھ بھی آئی نہ زندگی ہم تکتمھارے بعد بھی ہم تک قضا نہیں آئی

دعا کو ہاتھ اٹھائے تو کیا ہوا یارووہی ہوا کہ لبوں تک دعا نہیں آئی

وہ روشنی ہوئی کچھ بھی نظر نہیں آیاوہ غلغلہ اٹھا کوئی صدا نہیں آئی

اٹھا بھی ابر تو ہم پر برس نہیں پایاہوا چلی بھی تو ہم تک ہوا نہیں آئی

تھکے ہوئے تھے زیادہ تو سو گئے اور کچھتمہاری یاد بھی حد سے سوا نہیں آئی

— امیر امام